(ابن ماجہ‘ مسند احمد‘ طبرانی)
حضرت ام ھانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے۔ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! میں بوڑھی اور کمزور ہوگئی ہوں‘ کوئی عمل ایسا بتادیجئے کہ بیٹھے بیٹھے کرتی رہا کروں۔
Posted by
Unknown
Labels:
islamicworld
حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ
بن ارت نے جونہی اسلام قبول کیا۔ مشرکین مکہ کو فوراً اس کی اطلاع ہوگئی
اور انہوں نے حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ظلم وستم کے وہ پہاڑ توڑے
کہ جو بھی مسلمان سنتا انگاروں پر لوٹنے لگتا۔ اہل مکہ نے لوہا گرم کرکے ان
کا سر داغا کوئلوں کو دہکا کر حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ننگے بدن
ان پر لٹایا۔ اب اس ظلم و ستم کے بعد بھی حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے
کسی کمزوری کا اظہار نہ کیا تو کفار کے
دلوں میں مزید غصہ اور بدلہ لینے کا جذبہ پیدا ہوا اور انہوں نے پہلے تو
ایک بھاری پتھر حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سینے پر رکھا....
پھر ایک شیطان نے اس پتھر پر چڑھ کر اچھل کود شروع کردی۔ دہکتے ہوئے کوئلے ان کے جسم کو جلا کر کمر میں گھس گئے اور چربی پگھل پگھل کر بہنے لگی اس سے کوئلے بھی بجھ گئے۔
حضرت خباب بن الارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر کفار نے اس قدر ظلم کیے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز بے اختیار ان کے حق میں دعا کی ....! اے اللہ خباب کی مدد فرما۔ حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیٹھ پر جلنے کے یہ داغ ہمیشہ موجود رہے۔ ان کی کھال جل گئی اور سفید داغ پڑگئے تھے۔ ان کا چھوٹا بچہ کمر کے ان سوراخوں میں انگلی ڈال کرکھیلا کرتا تھا۔ یہ تھے صبرواستقامت (برداشت کرنا اور دین پر جم جانا) کے زندہ پہاڑ حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کا مبارک نام اسلام کی تاریخ کے صفحات پر جگمگارہا ہے۔
►·٠•●♥ دیا ♥●•٠·◄
پھر ایک شیطان نے اس پتھر پر چڑھ کر اچھل کود شروع کردی۔ دہکتے ہوئے کوئلے ان کے جسم کو جلا کر کمر میں گھس گئے اور چربی پگھل پگھل کر بہنے لگی اس سے کوئلے بھی بجھ گئے۔
حضرت خباب بن الارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر کفار نے اس قدر ظلم کیے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز بے اختیار ان کے حق میں دعا کی ....! اے اللہ خباب کی مدد فرما۔ حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیٹھ پر جلنے کے یہ داغ ہمیشہ موجود رہے۔ ان کی کھال جل گئی اور سفید داغ پڑگئے تھے۔ ان کا چھوٹا بچہ کمر کے ان سوراخوں میں انگلی ڈال کرکھیلا کرتا تھا۔ یہ تھے صبرواستقامت (برداشت کرنا اور دین پر جم جانا) کے زندہ پہاڑ حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کا مبارک نام اسلام کی تاریخ کے صفحات پر جگمگارہا ہے۔
►·٠•●♥ دیا ♥●•٠·◄
Posted by
Unknown
Labels:
islamicworld
حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ
تعالیٰ عنہما راوی ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ
وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ ایک کھجور کے درخت کے نیچے تشریف فرما تھے کہ بالکل
ہی اچانک ایک بہت بڑے کالے سانپ نے آپ کی طرف رُخ کیا،لوگوں نے اس کو مار
ڈالنے کا ارادہ کیا لیکن آپ نے فرمایا کہ اس کو میرے پاس آنے دو۔
جب یہ آپ کے پاس پہنچا تو اپنا سر آپ کے کانوں کے پاس کر دیا۔ پھر آپ نے اس سانپ کے منہ کے قریب اپنا منہ کرکے چپکے چپکے کچھ ارشاد فرمایا اس کے بعد اسی جگہ یکبارگی وہ سانپ اس طرح غائب ہو گیا کہ گویا زمین اس کو نگل گئی۔
حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول
اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ نے سانپ کو اپنے کانوں تک پہنچنے دیا یہ
منظر دیکھ کر ہم لوگ ڈر گئے کہ کہیں یہ سانپ آپ کو کاٹ نہ لے۔
آپ صلی
اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ سانپ نہیں تھا بلکہ جنوں کی جماعت کا
بھیجا ہوا ایک جن تھا۔ فلاں سورہ میں سے کچھ آیتیں یہ بھول گیا۔ ان آیتوں
کو دریافت کرنے کے لئے جنوں نے اس کو میرے پاس بھیجا تھا۔ میں نے اس کو وہ
آیتیں بتا دیں اور وہ ان کو یاد کرتا ہوا چلا گیا۔
(الکلام المبين ص۹۴)
Posted by
Unknown
Labels:
islamicworld
حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ
عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بھیڑیئے نے ایک بکری کو پکڑ لیالیکن بکریوں کے
چرواہے نے بھیڑئیے پر حملہ کرکے اس سے بکری کو چھین لیا۔
بھیڑیا بھاگ کر ایک ٹیلے پر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ اے چرواہے! اﷲ تعالیٰ نے مجھ کو رزق دیا تھا مگر تو نے اس کو مجھ سے چھین لیا۔ چرواہے نے یہ سن کر کہا کہ خدا کی قسم! میں نے آج سے زیادہ کبھی کوئی حیرت انگیز اور تعجب خیز منظر نہیں دیکھا کہ ایک بھیڑیا عربی زبان میں مجھ سے کلام کرتا ہے۔
بھیڑیا کہنے لگا کہ اے چرواہے! اس سے کہیں زیادہ عجیب بات تو یہ ہے کہ تو یہاں بکریاں چرا رہا ہے اور تو اس نبی کو چھوڑے اور ان سے منہ موڑے ہوئے بیٹھا ہے جن سے زیادہ بزرگ اور بلند مرتبہ کوئی نبی نہیں آیا۔ اس وقت جنت کے تمام دروازے کھلے ہوئے ہیں اور تمام اہل جنت اس نبی کے ساتھیوں کی شانِ جہاد کا منظر دیکھ رہے ہیں اور تیرے اور اس نبی کے درمیان بس ایک گھاٹی کا فاصلہ ہے۔ کاش! تو بھی اس نبی کی خدمت میں حاضر ہو کر اﷲ کے لشکروں کا ایک سپاہی بن جاتا۔
چرواہے نے اس گفتگو سے متاثر ہو کر کہا کہ اگر میں یہاں سے چلا گیا تو میری بکریوں کی حفاظت کون کرے گا؟ بھیڑئیے نے جواب دیا کہ تیرے لوٹنے تک میں خود تیری بکریوں کی نگہبانی کروں گا۔ چنانچہ چرواہے نے اپنی بکریوں کو بھیڑئیے کے سپرد کر دیا اور خود بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر مسلمان ہو گیا اور واقعی بھیڑیئے کے کہنے کے مطابق اس نے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اصحاب کو جہاد میں مصروف پایا۔ پھر چرواہے نے بھیڑئیے کے کلام کا حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلمنے فرمایا کہ تم جائو تم اپنی سب بکریوں کو زندہ و سلامت پائو گے۔
چنانچہ چرواہا جب لوٹا تو یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گیا کہ بھیڑیا اس کی بکریوں کی حفاظت کر رہا ہے اور اس کی کوئی بکری بھی ضائع نہیں ہوئی ہے چرواہے نے خوش ہو کر بھیڑیئے کے لئے ایک بکری ذبح کرکے پیش کر دی اور بھیڑیا اس کو کھا کر چل دیا۔
(زرقانی جلد۵ ص۱۳۵ تا ص۱۳۶)
بھیڑیا بھاگ کر ایک ٹیلے پر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ اے چرواہے! اﷲ تعالیٰ نے مجھ کو رزق دیا تھا مگر تو نے اس کو مجھ سے چھین لیا۔ چرواہے نے یہ سن کر کہا کہ خدا کی قسم! میں نے آج سے زیادہ کبھی کوئی حیرت انگیز اور تعجب خیز منظر نہیں دیکھا کہ ایک بھیڑیا عربی زبان میں مجھ سے کلام کرتا ہے۔
بھیڑیا کہنے لگا کہ اے چرواہے! اس سے کہیں زیادہ عجیب بات تو یہ ہے کہ تو یہاں بکریاں چرا رہا ہے اور تو اس نبی کو چھوڑے اور ان سے منہ موڑے ہوئے بیٹھا ہے جن سے زیادہ بزرگ اور بلند مرتبہ کوئی نبی نہیں آیا۔ اس وقت جنت کے تمام دروازے کھلے ہوئے ہیں اور تمام اہل جنت اس نبی کے ساتھیوں کی شانِ جہاد کا منظر دیکھ رہے ہیں اور تیرے اور اس نبی کے درمیان بس ایک گھاٹی کا فاصلہ ہے۔ کاش! تو بھی اس نبی کی خدمت میں حاضر ہو کر اﷲ کے لشکروں کا ایک سپاہی بن جاتا۔
چرواہے نے اس گفتگو سے متاثر ہو کر کہا کہ اگر میں یہاں سے چلا گیا تو میری بکریوں کی حفاظت کون کرے گا؟ بھیڑئیے نے جواب دیا کہ تیرے لوٹنے تک میں خود تیری بکریوں کی نگہبانی کروں گا۔ چنانچہ چرواہے نے اپنی بکریوں کو بھیڑئیے کے سپرد کر دیا اور خود بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر مسلمان ہو گیا اور واقعی بھیڑیئے کے کہنے کے مطابق اس نے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اصحاب کو جہاد میں مصروف پایا۔ پھر چرواہے نے بھیڑئیے کے کلام کا حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلمنے فرمایا کہ تم جائو تم اپنی سب بکریوں کو زندہ و سلامت پائو گے۔
چنانچہ چرواہا جب لوٹا تو یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گیا کہ بھیڑیا اس کی بکریوں کی حفاظت کر رہا ہے اور اس کی کوئی بکری بھی ضائع نہیں ہوئی ہے چرواہے نے خوش ہو کر بھیڑیئے کے لئے ایک بکری ذبح کرکے پیش کر دی اور بھیڑیا اس کو کھا کر چل دیا۔
(زرقانی جلد۵ ص۱۳۵ تا ص۱۳۶)
Posted by
Unknown
Labels:
islamicworld
حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ
تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ بنی سلیم کا ایک اعرابی ناگہاں حضورِ
اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی محفل کے پاس سے گزرا آپ اپنے اصحاب کے
مجمع میں تشریف فرما تھے۔
یہ اعرابی جنگل سے ایک مردہ گوہ پکڑ کر لارہا تھا اعرابی نے آپ کے بارے میں لوگوں سے سوال کیا کہ وہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ اﷲ کے نبی ہیں۔ اعرابی یہ سن کر آپ کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا کہ مجھے لات و عزیٰ کی قسم ہے کہ میں اس وقت تک آپ پر ایمان نہیں لائوں گا جب تک میری یہ گوہ آپ کی نبوت پر ایمان نہ لائے، یہ کہہ کر اس نے گوہ کو آپ کے سامنے ڈال دیا۔
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلمنے گوہ کو پکارا تو اس نے لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَاتنی بلند آواز سے کہا کہ تمام حاضرین نے سن لیا۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تیرا معبود کون ہے؟ گوہ نے جواب دیا کہ میرا معبود وہ ہے کہ اس کا عرش آسمان میں ہے اور اس کی بادشاہی زمین میں ہے اور اس کی رحمت جنت میں ہے اور اس کا عذاب جہنم میں ہے۔
پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اے گوہ! یہ بتا کہ میں کون ہوں؟ گوہ نے بلند آواز سے کہا کہ آپ رب العالمین کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں جس نے آپ کو سچا مانا وہ کامیاب ہو گیا اور جس نے آپ کو جھٹلایا وہ نامراد ہو گیا۔
یہ منظر دیکھ کر اعرابی اس قدر متاثر ہو ا کہ فورا ً ہی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میں جس وقت آپ کے پاس آیا تھا تو میری نظر میں روئے زمین پر آپ سے زیادہ ناپسند کوئی آدمی نہیں تھا لیکن اس وقت میرا یہ حال ہے کہ آپ میرے نزدیک میری اولاد بلکہ میری جان سے بھی زیادہ پیارے ہو گئے ہیں۔
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا کے لئے حمد ہے جس نے تجھ کو ایسے دین کی ہدایت دی جو ہمیشہ غالب رہے گا اور کبھی مغلوب نہیں ہو گا۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کو سورئہ فاتحہ اور سورئہ اخلاص کی تعلیم دی ۔
اعرابی قرآن کی ان دو سورتوں کو سن کر کہنے لگا کہ میں نے بڑے بڑے فصیح و بلیغ، طویل و مختصر ہر قسم کے کلاموں کو سنا ہے مگر خدا کی قسم! میں نے آج تک اس سے بڑھ کر اور اس سے بہتر کلام کبھی نہیں سنا۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا کہ یہ قبیلہ بنی سلیم کا ایک مفلس انسان ہے تم لوگ اس کی مالی امداد کر دو۔یہ سن کر بہت سے لوگوں نے اس کو بہت کچھ دیا یہاں تک کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو دس گابھن اونٹنیاں دیں۔ یہ اعرابی تمام مال و سامان کو ساتھ لے کر جب اپنے گھر کی طرف چلا گیا
اس حدیث کو طبرانی و بیہقی و حاکم و ابن عدی جیسے بڑے بڑے محدثین نے روایت کیا ہے۔
(زرقانی ج۵ ص ۱۴۸ تا ص ۱۴۹)
یہ اعرابی جنگل سے ایک مردہ گوہ پکڑ کر لارہا تھا اعرابی نے آپ کے بارے میں لوگوں سے سوال کیا کہ وہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ اﷲ کے نبی ہیں۔ اعرابی یہ سن کر آپ کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا کہ مجھے لات و عزیٰ کی قسم ہے کہ میں اس وقت تک آپ پر ایمان نہیں لائوں گا جب تک میری یہ گوہ آپ کی نبوت پر ایمان نہ لائے، یہ کہہ کر اس نے گوہ کو آپ کے سامنے ڈال دیا۔
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلمنے گوہ کو پکارا تو اس نے لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَاتنی بلند آواز سے کہا کہ تمام حاضرین نے سن لیا۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تیرا معبود کون ہے؟ گوہ نے جواب دیا کہ میرا معبود وہ ہے کہ اس کا عرش آسمان میں ہے اور اس کی بادشاہی زمین میں ہے اور اس کی رحمت جنت میں ہے اور اس کا عذاب جہنم میں ہے۔
پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اے گوہ! یہ بتا کہ میں کون ہوں؟ گوہ نے بلند آواز سے کہا کہ آپ رب العالمین کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں جس نے آپ کو سچا مانا وہ کامیاب ہو گیا اور جس نے آپ کو جھٹلایا وہ نامراد ہو گیا۔
یہ منظر دیکھ کر اعرابی اس قدر متاثر ہو ا کہ فورا ً ہی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میں جس وقت آپ کے پاس آیا تھا تو میری نظر میں روئے زمین پر آپ سے زیادہ ناپسند کوئی آدمی نہیں تھا لیکن اس وقت میرا یہ حال ہے کہ آپ میرے نزدیک میری اولاد بلکہ میری جان سے بھی زیادہ پیارے ہو گئے ہیں۔
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا کے لئے حمد ہے جس نے تجھ کو ایسے دین کی ہدایت دی جو ہمیشہ غالب رہے گا اور کبھی مغلوب نہیں ہو گا۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کو سورئہ فاتحہ اور سورئہ اخلاص کی تعلیم دی ۔
اعرابی قرآن کی ان دو سورتوں کو سن کر کہنے لگا کہ میں نے بڑے بڑے فصیح و بلیغ، طویل و مختصر ہر قسم کے کلاموں کو سنا ہے مگر خدا کی قسم! میں نے آج تک اس سے بڑھ کر اور اس سے بہتر کلام کبھی نہیں سنا۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا کہ یہ قبیلہ بنی سلیم کا ایک مفلس انسان ہے تم لوگ اس کی مالی امداد کر دو۔یہ سن کر بہت سے لوگوں نے اس کو بہت کچھ دیا یہاں تک کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو دس گابھن اونٹنیاں دیں۔ یہ اعرابی تمام مال و سامان کو ساتھ لے کر جب اپنے گھر کی طرف چلا گیا
اس حدیث کو طبرانی و بیہقی و حاکم و ابن عدی جیسے بڑے بڑے محدثین نے روایت کیا ہے۔
(زرقانی ج۵ ص ۱۴۸ تا ص ۱۴۹)
Posted by
Unknown
Labels:
islamicworld
لوگوں کے ساتھ میل جول رکھنا ،
اور ان کی ضرورتیں پوری کرنا ہی عبادت ہے ۔ وہ آپ کی محبت سے اور شفقت سے
محروم رہیں گے تو معاشرے میں کال پڑ جائے گا ، اور آپ کی ضرورتیں بھی رُک
جائیں گی ۔ صرف منہ سے بات کر کے لوگوں کی خدمت نہیں ہوتی اس میں عمل بھی
ہونا چاہیے ۔ ہمارے جتنے بھی ادیب اور شاعر تھے ، عملی زندگی بسر کرتے تھے
۔ امام غزالی پڑھنا لکھنا چھوڑ کر صاحبِ مال ہوئے لوگوں سے ملے جلے ۔
شیخ اکبر ابنِ عربی ، فرید الدین
عطار،رومی ادہر ہندوستان میں داتا صاحب ، معین الدین چشتی ، حضرت بختیار
کاکی یہ سب لوگوں کے کام کرتے تھے۔ مخلوقِ خدا کے کام آتے تھے ۔ ان کی
بہتری کے لیے ان کے ہاتھ بٹاتے تھے ۔ کیونکہ یہ حضور کی سنت تھی اور یہ سب
لوگ اس سنت پر ہی عمل کر کے آگے بڑھ سکتے تھے ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ401
Posted by
Unknown
Labels:
islamicworld
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ
عنہم مدینہ کے چاروں طرف کفار کے حملوں سے بچنے کے لیے خندق کھود رہے تھے
اتفاق سے ایک بہت ہی سخت چٹان نکل آئی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے
اپنی اجتماعی طاقت سے ہر چند اس کو توڑنا چاہا مگر وہ کسی طرح نہ ٹوٹ سکی،
پھاوڑے اس پر پڑ پڑ کر اُچٹ جاتے تھے۔ جب لوگوں نے مجبور ہو کر خدمت اقدس
میں یہ ماجرا عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اٹھ کر تشریف لائے اور
پھاوڑا ہاتھ میں لے کر ایک ضرب لگائی تو وہ چٹان ریت کے بھر بھرے ٹیلوں کی
طرح چور ہو کر بکھر گئی۔
(بخاری جلد ۲ ص ۵۸۸ خندق)
(بخاری جلد ۲ ص ۵۸۸ خندق)
Posted by
Unknown
Labels:
islamicworld
حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ
بن ارت نے جونہی اسلام قبول کیا۔ مشرکین مکہ کو فوراً اس کی اطلاع ہوگئی
اور انہوں نے حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ظلم وستم کے وہ پہاڑ توڑے
کہ جو بھی مسلمان سنتا انگاروں پر لوٹنے لگتا۔ اہل مکہ نے لوہا گرم کرکے ان
کا سر داغا کوئلوں کو دہکا کر حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ننگے بدن
ان پر لٹایا۔ اب اس ظلم و ستم کے بعد بھی حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے
کسی کمزوری کا اظہار نہ کیا تو کفار کے
دلوں میں مزید غصہ اور بدلہ لینے کا جذبہ پیدا ہوا اور انہوں نے پہلے تو
ایک بھاری پتھر حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سینے پر رکھا....
پھر ایک شیطان نے اس پتھر پر چڑھ کر اچھل کود شروع کردی۔ دہکتے ہوئے کوئلے ان کے جسم کو جلا کر کمر میں گھس گئے اور چربی پگھل پگھل کر بہنے لگی اس سے کوئلے بھی بجھ گئے۔
حضرت خباب بن الارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر کفار نے اس قدر ظلم کیے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز بے اختیار ان کے حق میں دعا کی ....! اے اللہ خباب کی مدد فرما۔ حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیٹھ پر جلنے کے یہ داغ ہمیشہ موجود رہے۔ ان کی کھال جل گئی اور سفید داغ پڑگئے تھے۔ ان کا چھوٹا بچہ کمر کے ان سوراخوں میں انگلی ڈال کرکھیلا کرتا تھا۔ یہ تھے صبرواستقامت (برداشت کرنا اور دین پر جم جانا) کے زندہ پہاڑ حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کا مبارک نام اسلام کی تاریخ کے صفحات پر جگمگارہا ہے۔
پھر ایک شیطان نے اس پتھر پر چڑھ کر اچھل کود شروع کردی۔ دہکتے ہوئے کوئلے ان کے جسم کو جلا کر کمر میں گھس گئے اور چربی پگھل پگھل کر بہنے لگی اس سے کوئلے بھی بجھ گئے۔
حضرت خباب بن الارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر کفار نے اس قدر ظلم کیے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز بے اختیار ان کے حق میں دعا کی ....! اے اللہ خباب کی مدد فرما۔ حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیٹھ پر جلنے کے یہ داغ ہمیشہ موجود رہے۔ ان کی کھال جل گئی اور سفید داغ پڑگئے تھے۔ ان کا چھوٹا بچہ کمر کے ان سوراخوں میں انگلی ڈال کرکھیلا کرتا تھا۔ یہ تھے صبرواستقامت (برداشت کرنا اور دین پر جم جانا) کے زندہ پہاڑ حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کا مبارک نام اسلام کی تاریخ کے صفحات پر جگمگارہا ہے۔
Posted by
Unknown
Labels:
islamicworld
Ayat of the Day: The example of those who spend their wealth in the way of Allah is like a seed [of grain] which grows seven spikes; in each spike is a hundred grains. And Allah multiplies [His reward] for whom He wills. And Allah is all-Encompassing and Knowing. 2:261
Posted by
Unknown
Labels:
islamicworld
Subscribe to:
Posts (Atom)







